نئی دہلی:27/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ٹرپل طلاق وتعددازدواج کے معاملے پرآل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈنے اپنا جواب سپریم کورٹ میں داخل کرتے ہوئے دائر درخواستوں کی مخالفت کی اور کہا کہ ٹرپل طلاق کے بارے میں کوئی بھی حکم کسی مذہب کو اپنانے اور اس کوماننے سے اس کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔اس معاملے میں سپریم کورٹ30 مارچ سے سماعت شروع کرسکتاہے۔
اس کے پہلے16 فروری کو سپریم کورٹ نے تمام فریقوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اٹارنی جنرل کو اپنے مسئلے تحریری طور پر تیس مارچ تک دے دیں۔ کورٹ نے اس بات کے اشارے دیے تھے کہ اس مسئلے کو پانچ ججوں کی آئین بنچ کے سامنے ریفرکیاجاسکتاہے۔ مرکزی حکومت نے کورٹ کو وہ چار مسئلے سونپے تھے جن پر سماعت ہونی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے جواب سونپے تھے وہ یہ کہ کیا طلاق، نکاح اور کثیر شادی آئین کی دفعہ 25 (1) کے تحت محفوظ ہے۔ کیا آئین کی دفعہ 25 (1) آئین کے سیکشن تین خاص طور پر دفعہ 14 اور 21 کاموضوع ہے۔کیاآئین کی دفعہ 13 کے تحت پرسنل لادرست ہے۔کیاطلاق، نکاح اور تعددازدواج بین الاقوامی معاہدہ پر عمل کرتا ہے جس کا ایک دستخط بھارت کابھی ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام فریقین سے کہا تھا کہ وہ دونوں جانب سے بحث کے لئے تین تین وکلاء یافریقین کومنتخب کرلیں۔ وہ قانون کے وسیع معاملے پرغورکریں گے۔کورٹ نے کہاتھاکہ اس میں انسانی حقوق کا پہلو بھی شامل ہو سکتا ہے اور اس کا زیر التوا معاملوں پربھی اثرہوسکتاہے۔کورٹ نے کہا تھا کہ اس معاملے میں وہ کامن سول کوڈ پر غور نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے پہلے سماعت کے دوران آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈنے سپریم کورٹ میں ایک اور حلف نامہ داخل کرکے مرکز کی دلیلوں کی مخالفت کی تھی۔بورڈنے کہاتھاکہ ٹرپل طلاق کو خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بتانے والے مرکزی حکومت کا موقف غلط ہے۔ پرسنل لاء کو بنیادی حق کے طور پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق ٹرپل طلاق، نکاح جیسے مسئلے پر عدالت اگرسماعت کرتی ہے تو یہ جوڈیشیل لیجسلیشن کی طرح ہو جائے گا۔